بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
فارن(غیر ملکی) کرنسی ادھار دے کر اُس پر منافع لینا کیسا ہے؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
زمرہ:
سود
زبان:
اردو
👁️
139
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
1۔ تنخواہ سے ہونے والی لازمی کٹوتی جو کہ ’’پراویڈنٹ فنڈ‘‘ کی مد میں ہوتی ہے۔ کیا اس پر سود لینا جائز ہے؟؟
★
میں ایک لباس اور جوتے کی دکان پر کام کرتا ہوں معمول کے کام کے علاوہ میری ذمہ داری یہ بھی ہے کہ میں کسٹمرز سے کہوں کہ وہ ہماری دکان کا کریڈٹ کارڈ بھی استعمال کریں، جس پر سود لاگو ہوتا ہے۔ کیا یہ ملازمت جائز ہے۔ (جب کہ امریکہ دارالحرب ہے)۔
★
ہالینڈ میں ہماری تنخواہ بینک میں جمع ہوتی ہے اور اس طرح تنخواہ میں سود شامل ہو جاتا ہے کیا اس صورتِ حال میں کیا جانے والا حج قبول ہو گا ؟؟
★
1۔کیا سود لینے اور دینے والے ہی صرف گناہ گار ہیں یا اس سے متعلق تمام افراد ؟؟
★
1۔ میں کمپیوٹر کے ایک ایسے ادارے میں کام کرتا ہوں جو کہ ادھار پر مال فروخت کرتاہے، اگر مقررہ مدت میں رقم وصول نہیں ہوتی تو ادارہ قرض کی رقم کے ساتھ سود بھی وصول کرتا ہے اور اس طرح ادارے کے منافع میں سود کی رقم بھی شامل ہو جاتی ہے، کیا اس ادارہ میں ملازمت کرنا جائز ہے؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu