بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
ایک سال پہلے ایک پلاٹ خریدا تھا جو اب بھی خالی ہے اور کسی استعمال میں نہیں ہے، کیا اس پر زکوٰۃ لاگو ہو گی ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
زمرہ:
زکوٰۃ
زبان:
اردو
👁️
227
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
میں نے کسی کو ادھار پر مال فروخت کیا، نقصان کی وجہ سے وہ شخص مجھے اپنی رقم واپس نہیں کر سکتا، نیز وہ شخص زکوٰۃ کا مستحق ہے، میری جو رقم اس کی طرف نکلتی ہے کیا میں اُس رقم کو زکوٰۃ کی مد سے منتقل کر سکتا ہوں؟؟
★
مستحق بہن اور بھائی کو زکوٰۃ دیناکیسا ہے ؟؟
★
1۔میں نے سنا ہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن زکوٰۃ کے لئے مستحق ادارہ نہیں ہے، کیا یہ درست ہے ؟؟
★
7.5تولہ سونے کی قیمت تقریباً45,000روپے ہے جب کہ 52.50تولہ چاندی کی قیمت تقریباً4,200روپے ہے، براہِ کرم وضاحت فرمائیں ۔
★
میں نے کسی ماہنامہ میں پڑھا کہ ذاتی استعمال کا سونا زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہے، کیا یہ درست ہے ؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu