بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
بحث کے دوران میں نے تین مرتبہ لفظِ طلاق کہا، نہ ہی میں نے یہ کہا کہ میں طلاق دیتا ہوں اور نہ ہی میرا اپنی بیوی کی طرف کوئی اشارہ تھاجب کہ اُس وقت مجھ پر دوائیوں کا بھی اثر تھا، کیا ہمارا نکاح قائم ہے ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
زمرہ:
نکاح طلاق
زبان:
اردو
👁️
129
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
کیا کوئی مسلمان کسی اہلِ کتاب سے شادی کر سکتا ہے اور کیا اس کا جواز قرآن شریف کی کسی آیت سے ہے ؟؟
★
اگر میں اپنی بیوی کو متواتر تین بار یہ کہوں کہ’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘، کیا یہ مکمل طلاق ہو گی یا مکمل طلاق کے لئے ضروری ہے کہ تین مختلف اوقات میں تین طلاقیں دی جائیں؟؟
★
2۔ کیا سنّی لڑکا کسی بد مذھب کی لڑکی سے شادی کرسکتا ہے ؟؟
★
میں نے سنا ہے کہ اگر کوئی شخص ’طلاق، طلاق، طلاق‘ کہے تو یہ ایک طلاق ہو گی، کیا اسلام میں طلاق کا یہی درست طریقہ ہے ؟؟
★
گیارہ ماہ قبل میرے شوہر نے بحث کے دوران تین بار لفظِ طلاق کہا، جب کہ مجھے مکمل یقین ہے کہ میرے شوہر کا یہ مقصد نہیں تھا، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu