بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
بالغ لڑکے اور لڑکی کا ولی کی موجودگی کے بغیر نکاح کرنا۔
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
زمرہ:
نکاح طلاق
زبان:
اردو
👁️
79
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
میری بہن کو اس کے شوہر نے دو گواہوں کی موجودگی میں طلاق دے دی،15دن بعد اس نے اپنی شادی کو برقرار رکھنا چاہالیکن میری بہن نے مسترد کر دیا، وہ ایک مفتی سے فتویٰ لے کر آیا، مفتی صاحب نے کہا کہ وہ تین مہینہ سے تک رجوع کر سکتا ہے وہ بار بار درخواست کرتا رہا اور یوں تین ماہ گذر گئے، اب میری بہن راضی ہو گئی ہے، کیا وہ اس کے ساتھ رہ سکتی ہے ؟؟
★
3۔ اگر بیوی، شوہر سے یہ کہے کہ جب تم دوسری شادی کرو تو مجھے چھوڑ دینا اور شوہر کہے کہ “ٹھیک ہے”تو کیا اب دوسرے نکاح کے بعد پہلی بیوی پر طلاق واقع ہو جائے گی؟؟ اگر”ہاں”، تو کتنی ، “ایک” یا” تین”؟؟
★
کیا ’شیعہ‘ اور ’سنّی‘ لڑکا،لڑکی شادی کر سکتے ہیں ؟؟
★
ایک لڑکی کا نکاح سنّی حنفی مذہب پر ہوا۔ شادی کے کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ لڑکا شیعہ ہے، کیا نکاح باقی ہے؟؟
★
ایک نشست میں دی گئی تین طلاقیں تین ہونگی یا ایک ؟؟ حضرت عبدﷲ ابنِ عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت رقانہ رضی ﷲ عنہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی بیوی کو طلاق دینے کا رسول ﷲ ﷺ سے ذکر کیا، حضور ﷺ نے فرمایا”تم نے ایک ہی نشست میں طلاق دی “انہوں نے عرض کیا “ہاں”، حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایک ہی طلاق واقع ہوئی۔ اسی طرح مشہور حنفی اسکالر، ہندوستان کے مولانا عبدالحئی لکھنوی کا بھی ہی مؤقف ہے اور امام ابو داؤد زہری کا بھی یہی مذہب ہے اور امام شوکانی نے حضرت ابو موسٰی اشعری کی روایت کی روشنی میں یہی فتوٰی دیا کہ ایک نشست میں “تین”طلاقیں “ایک”ہی ہونگیں اور مولانا انور شاہ کشمیری کا بھی یہی مؤقف ہے، براہِ کرم تفصیلاً بتائیں۔
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu