بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
بہارِ شریعت “باب النکاح”میں لکھا ہے کہ اگر لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ ہوں تو گواہوں کی ضرورت نہیں ہے، کیا یہ درست ہے ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
زمرہ:
نکاح طلاق
زبان:
اردو
👁️
175
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
میری عمر سترہ سال ہے اور میرے والدین زبردستی میری شادی کسی رشتہ دار سے کروانا چاہتے ہیں جبکہ وہ لڑکا صحیح عادتوں کا نہیں ہے، میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔ براہِ مہربانی بتائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟؟
★
2۔ اگر وہ طلاق نہ دینا چاہیں تو پھر علیحدگی کس طرح ممکن ہے ؟؟
★
سنّی لڑکی کا شیعہ لڑکے سے نکاح کرنا۔
★
میری عمر 24سال ہے ، میرے والدین کی خواہش ہے کہ میری شادی کسی اپنے ہی ہم وطن سے ہو، جبکہ میں چاہتی ہوں کہ کسی ایسے نیک مسلمان سے شادی کروں جوکہ کسی دوسری قومیت کا شخص ہو، تا کہ دوسری قومیتوں کے مسلمان ایک دوسرے کے قریب ہوں، کیا میں اپنا حق استعمال کرسکتی ہوں یا والدین کا مشورہ قبول کروں ؟؟
★
میرے بھائی نے ایک عرصہ قبل ایک بچہ گود لیا تھا جس کی حال میں شادی ہوئی ہے، نکاح میں اس لڑکے کے نام کے ساتھ میرے بھائی کا نام لیا گیا (یعنی سلمان بن رشید ۔ نکاح قبول ہے ؟؟)،رشید میرے بھائی کا نام ہے، کیا نکاح ہو گیا ؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu