بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
بہارِ شریعت “باب النکاح”میں لکھا ہے کہ اگر لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ ہوں تو گواہوں کی ضرورت نہیں ہے، کیا یہ درست ہے ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
زمرہ:
نکاح طلاق
زبان:
اردو
👁️
112
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
لڑکے اور لڑکی کی باہمی رضامندی سے نکاح کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟؟
★
والدین کے رضا مندی کے خلاف کسی دوسرے مذہب کی لڑکی کو مسلمان کر کے اس سے شادی کر سکتے ہیں ؟؟
★
یہاں اخبارات میں چھپا ہے کہ ہریانہ اسٹیٹ مین کچھ لوگوں نے فتویٰ دیا ہے کہ مزار کو بوسہ دینے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے، اس سے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟؟
★
2۔ اگر کوئی شخص ملازمت کے سلسلہ میں اپنی بیوی سے دور کسی دوسرے ملک میں ہو تو کیا بیوی سے اجازت لینا ضروری ہے ؟؟
★
1۔ میرے شوہر نے مجھے مئی2000میں طلاق دی تھی(تین مرتبہ)۔ اب وہ کہتے ہیں کہ میری نیّت نہیں تھی بلکہ خاندان والوں کی وجہ سے طلاق نامے پر دستخط کیئے تھے۔ کیا طلاق ہو گئی؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu