بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
بہارِ شریعت “باب النکاح”میں لکھا ہے کہ اگر لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ ہوں تو گواہوں کی ضرورت نہیں ہے، کیا یہ درست ہے ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
زمرہ:
نکاح طلاق
زبان:
اردو
👁️
307
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے ایک شخص نے اپنا اور اپنے والد کا نام تبدیل کر دیااور اب تمام دستاویزات پر یہی نام ہے، اب وہ نکاح کرنا چاہتا ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا غلط نام سے نکاح ہو جائے گا؟؟
★
اگر بیوی معمولی تنازعات پر طلاق مانگے تو کیا نکاح برقرار رہتا ہے ؟؟
★
شادی کے لئے لڑکی کا والدین سے اجازت لینا۔
★
کیا کوئی شخص کسی دوسرے ملک سے اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے کیا یہ اسلام میں جائز ہے اور کیا طلاق واقع ہو جائے گی؟؟
★
2۔ کیا اسلام میں پسند(محبت) کی شادی کی گنجائش ہے ؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu