بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
بہارِ شریعت “باب النکاح”میں لکھا ہے کہ اگر لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ ہوں تو گواہوں کی ضرورت نہیں ہے، کیا یہ درست ہے ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
زمرہ:
نکاح طلاق
زبان:
اردو
👁️
264
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
اگر میں اپنی بیوی کو متواتر تین بار یہ کہوں کہ’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘، کیا یہ مکمل طلاق ہو گی یا مکمل طلاق کے لئے ضروری ہے کہ تین مختلف اوقات میں تین طلاقیں دی جائیں؟؟
★
طلاق سے متعلق
★
3۔ اگر بیوی، شوہر سے یہ کہے کہ جب تم دوسری شادی کرو تو مجھے چھوڑ دینا اور شوہر کہے کہ “ٹھیک ہے”تو کیا اب دوسرے نکاح کے بعد پہلی بیوی پر طلاق واقع ہو جائے گی؟؟ اگر”ہاں”، تو کتنی ، “ایک” یا” تین”؟؟
★
ایک لڑکی کا نکاح سنّی حنفی مذہب پر ہوا۔ شادی کے کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ لڑکا شیعہ ہے، کیا نکاح باقی ہے؟؟
★
1۔ کیا کسی کرسچن لڑکی سے شادی کرنا جائز ہے ؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu