بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
بہارِ شریعت “باب النکاح”میں لکھا ہے کہ اگر لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ ہوں تو گواہوں کی ضرورت نہیں ہے، کیا یہ درست ہے ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
زمرہ:
نکاح طلاق
زبان:
اردو
👁️
230
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
کیا ولیمے کے لئے صحبت ضروری ہے؟؟
★
1۔ ایک گونگے ، بہرے شخص کے چچا نے طلاق نامہ لکھ کر اُس گونگے، بہرے شخص سے انگوٹھا لگوا لیا۔ اس پر تین طلاقیں لکھی ہوئی تھیں اور گونگے شخص کے مطابق میں نے ایک طلاق دی ہے۔ یاد رہے کہ نکاح ہو چکا ہے لیکن رخصتی نہیں ہوئی ہے، حکمِ شرع کیا ہے؟؟
★
کیا بیو ی نکاح کے وقت کوئی بھی شرط رکھ سکتی ہے مثلاًبیوی شوہر سے کہے کہ وہ دوسری شادی نہیں کر سکتا اور اگر شوہر کو دوسری شادی کرنی ہو تو وہ طلاق کا حق بیوی کو تفویض کردے، کیا اس طرح کی شرائط درست ہیں ؟؟
★
کیا کسی غیر مسلم لڑکے کا مسلم لڑکی سے نکاح ہو سکتا ہے ؟؟
★
3۔ شرعاًکیا طریقہ ہے کہ میں نکاح ختم کر سکوں ؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu