بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
اگر شوہر غصہ کی حالت میں بیوی سے کہے کہ “طلاق جاؤ”، ایک مرتبہ کہا نیز اس نے کہا کہ “اگر تم چاہوتو میں دو اور بھی دے سکتا ہوں”، حکمِ شرع کیا ہے؟؟ایک طلاق ہوئی یا تین؟؟ کفارہ کیا ہو گا ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
زمرہ:
نکاح طلاق
زبان:
اردو
👁️
166
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے ایک شخص نے اپنا اور اپنے والد کا نام تبدیل کر دیااور اب تمام دستاویزات پر یہی نام ہے، اب وہ نکاح کرنا چاہتا ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا غلط نام سے نکاح ہو جائے گا؟؟
★
1۔ کیا کفریہ کلمات کہنے سے نکاح فاسد ہوجائے گا اور تجدیدِ نکاح ضروری ہے؟؟ اور اس کا مہر کیا ہو گا؟؟ 2۔ تجدیدِ نکاح کے وقت اگر عورت نکاح سے انکار کردے یا نکاح کے دوران قبول کرنے سے انکار کردے تو حکمِ شرع کیا ہے ؟؟
★
وہ کون سی شرائط ہیں جن کی بنا پر مسلم اور غیر مسلم میں نکاح ممکن ہے ؟؟
★
1۔ کیا رضائی بہن، بھائی کا نکاح ممکن ہے ؟؟
★
2۔ اگر وہ طلاق نہ دینا چاہیں تو پھر علیحدگی کس طرح ممکن ہے ؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu