بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
اگر شوہر غصہ کی حالت میں بیوی سے کہے کہ “طلاق جاؤ”، ایک مرتبہ کہا نیز اس نے کہا کہ “اگر تم چاہوتو میں دو اور بھی دے سکتا ہوں”، حکمِ شرع کیا ہے؟؟ایک طلاق ہوئی یا تین؟؟ کفارہ کیا ہو گا ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
زمرہ:
نکاح طلاق
زبان:
اردو
👁️
145
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
اسلام میں ’خُلع‘ کا مفہوم کیا ہے؟؟
★
2۔ کیا طلاق دینے پر ثبوت ہونا ضروری ہے؟؟
★
کچھ خاص یا ناگزیر وجوہات کی بنأ پر اگر نکاح کے گواہان موجود نہ ہوں تو کیا نکاح ہو جائے گا ؟؟
★
ایک خاتون نے شادی سے پہلے ایک لڑکی کو جنم دیا اور بعدمیں اُسی شخص سے شادی کر لی، وہ لڑکی اب شادی کی عمر کو پہنچ گئی ہے، لوگ کہتے ہیں کہ اس لڑکی کی شادی کے وقت لوگوں کو یہ بتانا ہو گا کہ یہ لڑکی اس طرح پیدا ہوئی تھی، کیا یہ درست ہے ؟؟ اب کوئی بھی اس لڑکی سے شادی نہیں کر رہا۔
★
بہارِ شریعت “باب النکاح”میں لکھا ہے کہ اگر لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ ہوں تو گواہوں کی ضرورت نہیں ہے، کیا یہ درست ہے ؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu