بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
1۔ کیا انڈیا (بھارت) یا پاکستان کی کسی غیرمسلم بینک میں رقم رکھنے پر سود لینا جائز ہے؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
زمرہ:
سود
زبان:
اردو
👁️
115
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
1۔ کیا کریڈٹ کارڈ کا استعمال جائز ہے؟؟ واضح ہو کہ کارڈ کی فیس 500سے1,000روپے سالانہ ہے اور کارڈ کے عوض جو خریداری کی جائے اس کی ادائیگی اگر ایک مہینے میں کردی جائے تو سود ادا نہیں کرنا پڑتا لیکن اگر ادائیگی ایک مہینے کے بعد کریں گے تو اس صورت میں سود ادا کرنا ہو گا۔
★
ہالینڈ میں ہماری تنخواہ بینک میں جمع ہوتی ہے اور اس طرح تنخواہ میں سود شامل ہو جاتا ہے کیا اس صورتِ حال میں کیا جانے والا حج قبول ہو گا ؟؟
★
1۔ ہم آپ کا بیان ’سنّتوں کی حکمت‘ کے موضوع پر سننا چاہتے ہیں۔
★
1۔ ریٹائر مینٹ حاصل کرنے کے بعد ملنے والی گریجویٹی اور دوسری مد میں ملنی والی رقوم کا اکثر لوگ بینک، وغیرہ میں جمع کرا دیتے ہیں تا کہ سود یا منافع کی مد میں ملنے والی رقم سے بقیہ زندگی گزارنے کا سامان ہو سکے کیونکہ ان کے پاس اور کوئی ذرائع بھی نہیں ہوتے۔ تو اس طرح کی رقم حاصل کرنا مکمل طور پر حرام ہے یا اسلام میں اس کی کوئی گنجائش ہے؟؟
★
اگرمسجد کا پیسہ (ہندوستان میں)بینک میں رہے تو کیا اس پر ملنے والے سود کو مسجد میں استعمال کرنا جائز ہے ؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu