بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
Home
Al Quran
Khazeena e Emaan
Friday Sermon
Live
Shah Turab Ul Haq Qadri
Shah Abdul Haq Qadri
Other Ulama
Events
Library
Article
Hamd o Naat
Books
Dalail ul Khairat
Qasida Burda
Video
About Us
Memon Masjid
Support
والدین کے رضا مندی کے خلاف کسی دوسرے مذہب کی لڑکی کو مسلمان کر کے اس سے شادی کر سکتے ہیں ؟؟
آپ کا براؤزر آڈیو سپورٹ نہیں کرتا۔
مقرر:
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ
زمرہ:
نکاح طلاق
زبان:
اردو
👁️
227
بار دیکھا گیا
اسی زمرے کے دیگر سوالات
★
یہاں اخبارات میں چھپا ہے کہ ہریانہ اسٹیٹ مین کچھ لوگوں نے فتویٰ دیا ہے کہ مزار کو بوسہ دینے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے، اس سے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟؟
★
طلاق سے متعلق
★
میں اپنی خالہ کی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں، جب اس کی عمر ڈیڑھ سال تھی اس نے میری والدہ کا دودہ پیا تھا، اس ایک بار کے علاوہ اس نے دوبارہ کبھی بھی میری والدہ کا دودھ نہیں پیا تھا، میں نے سنا اور پڑھا ہے کہ ایک بار دودھ پینے سے رضایت ثابت نہیں ہوتی، کیا میری خالہ کی لڑکی سے میرا نکاح جائز ہو گا ؟؟
★
ایک سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ موجودہ زمانے کے یہودی اور عیسائی لڑکی سے شادی جائز ہے جبکہ علامہ قاضی شمس الدین علیہ الرحمۃ نے اپنی کتاب قانونِ شریعت میں موجودہ یہودی اور عیسائی کو “لا مذہب”کہا اور امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃنے بھی “تاریخ الخلفأ”میں حضرت ابو بکرِ صدیق رضی ﷲ عنہ کاقول نقل فرمایا کہ یہودی اور عیسائی سے شادی کرنا منع ہے۔ تو کیا یہ لوگ اہلِ کتاب ہیں ؟؟
★
2۔کیا حقِ مہر نکاح کے وقت دینا چاہیے یا نکاح کے بعد ؟؟
واپس خزینہ ایمان
keyboard_arrow_up
Menu