سيرت : سابقہ سرپرست اعلیٰ مدرسہ انوار القرآن قادریہ رضویہ
ایک نظر میں: مرد مومن حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری رحمۃاللہ علیہ
ولادت: علامہ سید شاہ تراب الحق قادری رحمۃاللہ علیہ ابن سید شاه حسین قادری ۲۷ رمضان المبارک ۱۳۶۵ھ بمطابق ۱۵ ستمبر ۱۹۴۴ء کو حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ حیدر آباد دکن کے مشہور بزرگ
شاہ تراب الحق قادری رحمۃاللہ علیہ کی نسبت سے آپ کا نام تراب الحق رکھا گیا۔
سلسلہ نسب: آپ والد گرامی کی جانب سے سید اور والدہ کی جانب سے فاروقی ہیں۔
تعلیم : شاہ صاحب نے ابتدائی تعلیم مدرسہ تحتانیہ دودھ بولی، بیرونی دروازه نزد جامعه نظامیه حیدر آباد دکن میں حاصل کی ۔اور پاکستان آنے کے بعد فیض عام ہائی اسکول پی آئی بی کالونی میں بھی تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۶۱ء میں آپ نے حضرت قاری مصلح الدین صدیقی رحمۃاللہ علیہ جو آپ کے رشتہ میں خالو بھی لگتے ہیں اور سسر بھی۔ ان سے آپ نے آخوند مسجد کھارادر میں درس نظامی کا آغاز کیا۔ پھر دارالعلوم امجدیہ میں با قاعدہ داخلہ بھی لیا لیکن زیادہ تر اسباق قبلہ قاری صاحب سے ہی پڑھتے تھے ۱۹۶۸ء میں سند حدیث شیخ الحدیث علامہ عبدالمصطفى الازہری رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی۔
بیعت و خلافت: ۱۹۶۲ء میں جب شاہ صاحب کی عمر ۱۸ یا ۱۹ سال تھی تو قبلہ قاری صاحب رحمۃاللہ علیہ کے ارشاد پر آپ نے بذریعہ خط اعلی حضرت رحمۃاللہ علیہ کے چھوٹے صاحبزادے حضور مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مصطفی رضا خان رحمۃاللہ علیہ سے بیعت کی اور پھر ۱۹۶۸ء میں یلی شریف جاکر ان کے دست اقدس پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔ آپ کو ۱۹۸۰ء میں حضور مفتی اعظم ہند رحمۃاللہ علیہ نے اپنے نواسے حضرت تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان الازہری رحمۃاللہ علیہ کی موجودگی میں خلافت عطا فرمائی ۔اور آپ کے سید ہونے کی وجہ سے خصوصی شفقتوں سے نوازتے ہوئے اپنا جبہ شریف، عمامہ شریف، اور ٹوپی عنایت فرمائی۔ مزید بر آں بطور خاص سند خلافت قبلہ تاج الشریعہ رحمۃاللہ علیہ ہی سے لکھوائی پھر خود اپنے ہاتھ سے دستخط فرمائے اور تاریخ ڈالی۔ اس کے ساتھ ساتھ سلسلہ قادریہ ، برکاتیہ ، اشرفیہ ، شاذلیہ ، منوریہ ، معمریہ اور دیگر تمام سلاسل میں آپ کو اپنے استاد محترم قبلہ قاری محمد مصلح الدین صدیقی رحمۃاللہ علیہ اور قطب مدینہ علامہ ضیا الدین مدنی رحمۃاللہ علیہ کے صاحبزادے حضرت مولانا فضل الرحمن مدنی اور
تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان الازہری رحمۃاللہ علیہ سے اجازت و خلافت حاصل ہوئی۔ ۔۔
سیاسی خدمات : شاہ صاحب ایک متحرک و فعال شخصیت تھے۔ آپ مختلف عہدوں و مناصب پر فائز رہ کر خدمت خلق اور تقویت دین و مسلک کے لئے کاوشیں کرتے رہے۔ آپ کے ایم سی میں کو نسلر رہے پھر کے ایم سی کی تعلیمی کمیٹی کے چیئر مین بھی رہے اسی طرح لاء کمیٹی کے چیئر مین بھی رہے انٹر میڈیٹ بورڈ کے رکن، انسداد جرائم کمیٹی کے چیئر مین بھی رہے۔ ضیاء الحق کے زمانے میں الیکشن ہوئے تو کورنگی سے صوبائی اسمبلی کے امیدوار بنے۔ اسی طرح ۱۹۸۵ء کے غیر جماعتی الیکشن میں حلقہ ۱۹۰ کراچی ساؤتھ سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس اسمبلی میں اطلاعات کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے ممبر رہے۔ انسداد دہشتگردی کا قانون آپ کی کمیٹی نے بنا کر دیا۔ جاویداں سمینٹ فیکٹری کے ڈائریکٹر بھی رہے۔
مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے رکن رہے اور اپنے فرائض بخوبی سر انجام دیئے ۔اس کے علاوہ دینی شعبے میں بے شمار مدارس و مساجد اور فلاحی انجمنوں کی ذمہ داریاں بھی بہت اچھے طریقے سے پوری کرتے رہے۔
تصانیف : شاہ صاحب رحمۃاللہ علیہ جس طرح ایک بے مثال خطیب و مقرر اور شہباز خطابت تھے ۔وہیں آپ ایک صاحب قلم عالم دین بھی تھے۔ آپ نے اپنی بے پناہ مصروفیات کے با وجود بہت سی اہم کتب تصنیف فرمائیں۔ جن کے نام یہ ہیں:
ا۔ تصوف و طریقت ۲۔ فضائل صحابہ واہل بیت
۳ ۔جمال مصطفی ﷺ ۴۔ مزارات اولیاء اور توسل
۵۔ دعوت و تنظیم ۶۔ فلاح دارین ( تفسیر سوره العصر )
۷۔تفسیر سورہ فاتحہ ۸۔ حضور ﷺ کی بچوں سے محبت
۹۔مبارک راتیں ۱۰۔ خواتین اور دینی مسائل
۱۱۔حج و عمرہ ۱۲۔ انوار القرآن ( تفسير سورة الضحى تا سورة الناس )
۱۳۔ رسول خدا کی نماز ۱۴۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ
۱۵۔ اسلامی عقائد ۱۶۔ مسنون دعائیں
۱۷۔ختم نبوت ۱۸۔ ضیاء الحديث
۱۹۔دینی تعلیم ۲۰ تحریک پاکستان میں علمائے اہلسنت کا کردار
وصال: عالم اسلام کا یہ درخشاں ستارہ بالآخر طویل علالت کے بعد جمعرات ۴ محرم الحرام ۱۴۳۸ھ بمطابق ۱۶ اکتوبر ۲۰۱۶ء بروز جمعرات ۷۲ سال کی عمر میں غروب ہو گیا۔
مزار پر انوار : قبلہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تدفین آہوں اور سسکیوں کے ساتھ آپ کے استاد گرامی خلیفه و قطب مدینہ و صدر الشریعہ حضرت علامہ قاری محمد مصلح الدین صدیقی قادری رحمۃ اللہ علیہ کے پہلو میں مصلح الدین گارڈن (کھوڑی گارڈن) کراچی میں کی گئی۔۔۔

